Google Search

تازہ ترین

Post Top Ad

Your Ad Spot

بدھ، 18 نومبر، 2020

براک اوباما: سابق صدر زرداری نے اسامہ بن لادن کی پاکستان میں ہلاکت کو ’خوشی کی خبر‘ قرار دیا تھا

 

Obama Book


امریکہ کے صدر براک اوباما اپنی کتاب اے پرامسڈ لینڈ میں لکھا ہے کہ ایبٹ آباد میں نیوی سیلز کے آپریشن میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد اُن کا خیال تھا کہ سب سے سخت جو کال ہوگی وہ پاکستانی صدر آصف زرداری کی ہو گی کیونکہ اس واقعے پر ان پر پورے ملک سے دباؤ ہو گا کیونکہ اس سے پاکستان کی سالمیت کی تضحیک ہوئی ہے۔

 

لیکن انکے مطابق صدر آصف ذرداری کا ریکشن بلکل مختلف تھا۔

 

براک اوباما لکھتا ہے کہ صدر آصف زرداری اس کال پر کافی جذباتی تھے اور انھوں نے اپنی "اہلیہ بینظیر بھٹو" کا بھی ذکر کیا جن کو القاعدہ سے منسلک لوگوں نے ہلاک کیا تھا۔

یہ کتاب اوباما کے بچپن سے اور ان کے پہلے دور صدارت کے سب سے اہم واقعہ مئی 2011 میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت تک کے واقعات تک شامل ہے۔ وہ اپنی آپ بیتی کا دوسرا حصہ لکھ رہے ہیں لیکن یہ ابھی تک معلوپ نہیں ہے کہ اس کی اشاعت کب ہو گی۔

 

Usama Bin Landon

سات حصوں پر مشتمل کتاب کا آخری حصہ اسامہ بن لادن پر ایبٹ آباد میں کیے گئے حملے اور اس کی منصوبہ بندی کے بارے میں ہے

براک اوبامہ لکھتے ہیں کہ انھوں نے اپنے وزیروں کو مئی 2009 میں کہا کہ وہ القاعدہ کے صدر کی کھوج لگانا چاہتے ہیں اور اس کے لیے منصوبہ بندی شروع کردی جائے اور ہر 30 دن کے بعد انھیں اس کے بارے میں معلومات دی جائے۔

 

اس بارے میں اوباما لکھتے ہیں کہ ان کے لیے سب سے ضروری یہ تھا کہ اس کام کو مکمل طور پر خفیہ رکھا جائے اور صرف امریکی انتظامیہ میں چند گنتی کے کچھ لوگوں کو اس کے بارے میں علم ہوا۔ پاکستانی حکام کوبھی اس منصوبے کی بھنک بھی نہ پڑنے دی گئی۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

If you have any suggestion kindly let me know

Post Top Ad

Your Ad Spot