Google Search

تازہ ترین

Post Top Ad

Your Ad Spot

منگل، 10 نومبر، 2020

سیاستدان اور چمپینزی

 

Chimpanzee and politician
chimpanzee and politician


سیاستدان کو طاقت کے حصول کے لیے تو لڑتے تو دیکھا ہو گا آج ہم چمپینز یوں میں سیاست دیکھتے ہیں

 

چمپینزی میں بھی طاقت کو حاصل کرنے اور چال کے ذریعے طاقت حاصل کرنے کی خواہش ہوتی ہے۔ چمپینزی ایک سیاسی جانور ہے۔ یہ گروہ بناتے ہیں جس میں ایک سیاسی چالوں کے ذریعہ اِن کا لیڈر بن جاتا ہے۔

 

فرانس ڈی وال کی کتاب "چمپینزی سیاست" میں چمپینزیوں کے درمیان سیاسیت کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ وہ کہتے ہے کہ صرف جسمانی طور پر طاقتور ہونا کافی نہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ آپ کو حمایتی چاہیے ہوتےہیں جنہیں خوش رکھنا پڑتا ہے۔

سیاسی اکٹھ کرنا

اس میں دوسرے نر چمپینزیز کے ساتھ اکٹھ قائم کرنا ہوتا ہے۔ اس میں حکمت عملی درکار ہوتی ہے اور یہ ویسے ہی کام کرتے ہیں جیسے ہم مختلف پولیٹیکل پارٹیوں کو کرتا دیکھتے ہیں۔

پروفیسر کہتے ہیں کہ'اگر تین یا زیاوہ چمپینزی ہوں اور ان میں سے ایک زیادہ طاقتور ہو تو دوسرے مل کر اسکے خلاف ہو جاتے ہیں۔'

ان کا کہنا ہے کہ 'اگر یہ مضبوط چمپینزی کی حمایت کریں تو انہیں اس چمپینزی کے کارکن کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔'

سیاسی طاقت کو حاصل کرنے کے لیے چیمپنزی کو خوش اخلاق ہونا پڑتا ہے۔ صدر بننے کے خواہشمند چیمپنزی بچوں کو ایسے ہی بوسہ دیتے ہیں جیسے ہمارے سیاست دان۔ اور بلکہ وہ اپنی حمایت زیادہ کرنے کے لیے چیزوں کو بھی تقسیم کرتے ہیں جس میں گوشت اور دوسری چیزوں کا تقسیم کرنا شامل ہے۔

پروفیسر کے مطابق'سائنسدان ٹوشیسادا نیشیدا نے ایک چمپینزی پر تجربات کیے جو بارہ سال تک اپنے گروہ کا صدر رہا۔' پروفیسر وال نے اس کے بارے میں بتاتے ہوے کہا 'وہ دوسرے چمپینزیوں سے گوشت اپنے قبضے میں لے کر اسے اپنے ممبران میں بانٹ دیتا تھا اور اپنے مخالف چمپینزی کو نہیں دیتا۔ اسنے رشوت دینے کا ایک سسٹم قائم کرر رکھا تھا جو وہ اپنے فائدہ کے لیے استعمال کرتا تھا۔'

حقیقت میں چمپینزی صدر اپنے گروہ پر ٹیکس لگاتا تھا اور پھر اسکو اپنے طرف دارو میں تقسیم کرتا تھا۔ اپنے ممبران کو پیسے یا بریانی دینے کا یہ طریقہ صرف ہمارے اپنے سیاستدانوں تک محدود نہیں۔

جنگ کے دوران

 ہمارے سیستدانوں اور چمپینزیوں میں  ایک اور مشابہت گروپوں کے درمیان لڑائی کے وقت سامنے آتی ہے۔ چمپینزی دوسرے گروپوں پر حملہ کر کے اُن کو کو بری طرح قتل کر دیتے ہیں۔ انہیں سانپوں اور کچھ دوسرے جانوروں سے خطرہ رہتا ہے۔

وہ بالکل انسانوں کی سیاست کی طرح چمپینزیوں میں بھی بیرونی خطرات کے دوران اندرونی اختلافات کو ختم کر دیتے ہیں اور سب اپنے صدر کے حق میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔

امریکی ونڈربلٹ یونیورسٹی میں سیاسی سائنس کے پروفیسر کہتے ہیں کہ تحقیقات بتاتی ہیں کہ ممبران کبھی کبھی  ایک جھنڈے تلے ایک ہوجاتے ہیں۔'

انہوں نے کہا کہ 2000 کی شروع میں جارج ڈبلیو بش اپنے دورِ میں کچھ خاص فیمس نہیں تھے مگر جب 2001  میں ستمبر گیارہ کے حملوں کے بعد اُن کی مقبولیت 90% تک پہنچ گئی۔'

 

ڈاکٹر الیسن کرونن کا کہنا ہے کہ ان جانوروں میں بھی یہی خصوصیت پائی جاتی ہے۔ 'اگر کوئی بیرونی خطرہ ہو تو یہ سب کو ایک کر دیتا ہے۔جو عام دنوں میں ایک دوسرے کو برداشت نہیں کر تے وہ بھی مشکل وقت میں گروہ کا حصہ بن کر سب کے ساتھ کام کرتے ہیں۔

 

یہ مشابہت میں کوئی حیرت کی بات نہیں ۔ انسان بھی حیوان ہوتے ہیں۔ اب اگر کبھی سیاستدان کو دیکھیں تو یاد رکھیں کہ یہ بھی سیاسی حیوان ہی ہیں۔ اور چمپینزیوں کی طرح یہ بھی صرف اپنی طاقت کو حاصل کرنے کے لیے لڑرہےہیں۔

bbc urdu

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

If you have any suggestion kindly let me know

Post Top Ad

Your Ad Spot