Google Search

تازہ ترین

Post Top Ad

Your Ad Spot

اتوار، 13 دسمبر، 2020

سعودی عرب کے مشہور مکہ ٹاور کی تصویر میں پیچھے نظر آنے والی عمارت نے سب کہ حیران کردیا

 

Strange Building Appear in camera
Strange Building Appear in camera

 

سعودی عرب کے ایک فوٹو گرافر کی ایک تصویر نے لوگوں کو الجھن میں ڈال دیا۔

 

عرب میڈیا کے مطابق سعودی شہری فوٹو گرافر عبدالقادر المکی نے ایک بلند و بالا مقام سے جب حرم کے قریب واقع کلاک ٹاور کی پکچر لی جس میں اس کے پیچھے ایک دھندلی سی عمارت نظر آرہی ہے۔

 

انٹرنیٹ پر جب یہ تصویر شیئر کی گئی تو دیکھنے والوں نے اس کو ترمیم شدہ (فوٹو شاپ) تصویر قرار دیا کیونکہ سب لوگ حیران تھے اور کوئی اس بات کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھا کہ 113 کلومیٹر کی دوری پر موجود ایک عمارت کس طرح کیمرے میں آسکتی ہے؟

جب اس تصویر کو غور سے دیکھا گیا تو انہیں کلاک ٹاور کے اوپر نظر آنے والی مدھم سی عمارت کی ایک چوٹی نظر آئی جو کہ جدہ میں‌ قائم ہے اور اس عمارت کا نام این سی بی ہے جو کہ سے سب جانتے ہیں۔

 

NBC building appear in picture from Makkah
NBC building appear in picture from Makkah

سوشل میڈیا صارفین نے کہا کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ این سی بی کی عمارت جو کہ کئی کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے تصویر میں نظر آجائے۔ اس لیے زیادہ تر صارفین نے اسے فوٹو گرافر کا کمال نہیں بلکہ فوٹو شاپ کا کمال کہا۔

 

تاہم سعودی مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے عبدالقادر المالکی نے اس بات کو دھرایا کہ "میں نے یہ تصویر چھ دسمبر کی صبح آٹھ بجے ایک جدید ترین کیمرے کی مدد سے لی"۔

 

اُن کا مزید کہنا تھا کہ "جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ بارش کے بعد آسمان صاف شفاف ہوجاتا ہے اسی لیے اس تصویر میں کئی کلومیٹر دور جدہ میں موجود این سی بی کی عمارت بھی نظر آگئی"۔

 

فوٹوگرافر کے مطابق ’میں نے یہ تصویر طائف میں موجود پہاڑی "الہدا" کے مقام "دکۃ حلوانی" سے لی ہے اور اس کے لیے انتہائی جدید ترین کیمرہ اور لینز کا استعمال کیا'

 

فوٹوگرافر عبدالقادر المالکی نے تفصیل بتاتے ہو کہا کہ ’میں اس مقام کو پہلے سے دیکھ چکا تھا اور اس کے بعد اسکی تصویر لینے کا ارادہ کیا مگر اس وقت وسائل نہ تھےاس وجہ سے ہمیشہ رک جاتا تھا اور پھر جب وسائل موجود ہوئے تھے تو مطلع صاف نہیں ہوتا تھا۔ پھر چھ دسمبر کو آخر کار وہ وقت آگیا کہ جس کا میں نے کافی سالوں انتظار کررہا تھا اور میں نے اس منزر کو تصویر کی صورت میں کیمرے میں محفوظ کیا‘۔

 

اپنی بات کے آخر میں ان کا کہنا تھا کہ " جب میں نے یہ تصویر کلک کی تو مجھے اندازہ نہیں تھا کہ پچھے نظر آنے والی یہ عمارت کون سی ہے اور میں اسکو مکہ کی ہی کوئی عمارت سمجھا تھا کیونکہ میں جدہ کی عمارتوں کو زیادہ نہیں جانتا"۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

If you have any suggestion kindly let me know

Post Top Ad

Your Ad Spot