Google Search

تازہ ترین

Post Top Ad

Your Ad Spot

ہفتہ، 5 دسمبر، 2020

اپنی زندہ ماں کو مردہ قرار دیا اور بچوں نے انشورنس کمپنی سے پچیس کروڑ روپے ہتھیا لیے، ملک کی تاریخ کا عجیب ترین کیس جس نے تحقیق کرنے والے اداروں کو بھی حیران کر دیا

 

اسلام آباد: میڈیا کے مطابق ایف آئی اے اینٹی ہیومن سرکل ریجن کراچی میں ایک انتہائی دلچسپ مقدمہ درج ہوا ہے جس میں منی لانڈرنگ کی دفعات بھی لگائی گئی ہیں۔ روزنامہ جنگ میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق لیاری میں رہنے والی ایک خاتون نے امریکا میں رہتے ہوئے اپنی دو لائف انشورنش کروائی اور پھر گورنمنٹ اسپتال کے ڈاکٹر سے ملی بھگت کرکے جعلی ڈیتھ سرٹیفکیٹ بنوایا اور 15لاکھ ڈالر جو کہتقریباً 25کروڑ روپے زائد رقم بنتی ہیں جو اس کے بیٹے نے امریکا سے کراچی منتقل کردی

Insurance Fraud

Insurance fraud



 اور کراچی سے خطیر رقم منی لانڈرنگی سے بھیج دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق چند روز قبل عدالت میں جمع کروائی گئی ایک ایف آئی آر نمبر 375/2020جس کا انسپکٹر اسٹیفن نے اندراج کیا ہے، کے انکوائری نمبر 418/19 کا مدعی کراچی میں امریکی قونصلیٹ کا اسسٹنٹ ریجنل سکیورٹی آفیسر اسکاٹ جے جیس ہے اس کے مطابق ایک خاتون جس کا ناام سیما سلیم کھربے نے 2008 میں امریکن جنرل انشورنش سے 10لاکھ ڈالر کی بیمہ پولیسی کروائی اور اس کی قسط بھی دینا شروع کر دیا۔ اس کے بعد اس عورت نے میٹ لائف انشورنش سے دوسری لائف انشورس بھی حاصل کی اور پھر پاکستان واپس آگئی۔ یہاں آ کر اس کی بیٹی نے 2011 میں لیاری کے جنرل اسپتال کے ڈاکٹر حسن اختر اور سیکرٹری یونین سے ملی بھگت کر کے جعلی موت کا سرٹیفقیٹ بنوایا کہ سیما کھربے کا انتقال دل کی دھڑکن بند ہو جانے سے ہوگیا اور اس کی لاش کی اسپتال میں تصدیق کروائی گئی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

If you have any suggestion kindly let me know

Post Top Ad

Your Ad Spot