Google Search

تازہ ترین

Post Top Ad

Your Ad Spot

اتوار، 10 جنوری، 2021

آپ کا واٹس ایپ کا ڈیٹا فیس بک کمپنی کے ساتھ بھی شئیر کیا جائے گا: جاںیے کس قسم کا ڈیٹا شیئر کیا جاسکتا ہے۔

 

whats app new policies
WhatsAppapp new policies 

امریکہ کیلیفورنیا: نئے سال پر اپنی پریس رلیز میں دنیا بھر کی مشہور فون میسجز اور ویڈیو کالنگ کی مشہور "واٹس ایپ" نے کہا ہے کہ وہ آٹھ فروری سے اپنے صارفین جو کہ لگ بھگ دو ارب ہے کا ڈیٹا اپنی پیرنٹ کمپنی فیس بک سے شیئر کرنا شروع کر دے گی۔

 

کس قسم کا ڈیٹا شیئر کیا جائے گا؟

 

آپ کے کوائف، آپ کی لوکیشن یعنی آپ کی جگہ پر رہتے اور جاتے ہیں اور اس کے علاوہ شاید دوستوں کے نمبر تک بھی فیس بک سے شیئر ہوسکتےہیں۔ واٹس ایپ نےاپنی ایپ کی اپ گریڈیشن کےساتھ ساتھ نئی شرائط بھی جاری کی ہیں۔ اس اپ ڈیٹ سے پہلے تک واٹس ایپ کی طرف سے ہمیشہ یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ آپ کا ڈیٹا کی سیکیورٹی بہت سخت ہیں اور دو رابطہ کرنے کے مابین اینکرپشن کے معیارات بہت سخت ہیں۔

 

لیکن اب فروری سے واٹس ایپ کمپنی آپ کا نام اور کوائف، آئی پی ایڈریس اور فون ماڈل کے علاوہ آپ کے آپریٹنگ سسٹم اور بیٹری چارجنگ کی پرسینٹیچ آپ کے موبائل کے سگنل کی مقدار۔ آپ اپنے موبائل میں کون سا براؤزر استعمال کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ آپ کے ایریا کے لحاظ سے موبائل کا نیٹ ورک، آئی ایس پی اور آپ کون سی زبان استعمال کرتے ہیں، کس ٹائم زون میں رہتے ہیں اور تو اور آپ کے موبائل کا آئی ایم ای اے بھی معلوم کر سکے گی اور شاید یہ تمام انفرمیشن فیس بک کے ساتھ شئر کرے گی۔

 

بزنس واٹس ایپ

واٹس ایپ کمپنی نے یہ بھی اعلان بھی کیا ہے کہ وہ واٹس ایپ پر کی جانے والی  کسی بھی کاروباری بات چیت کے تبادلے پر بھی نظر رکھے گی۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ واٹس ایپ آپ کے پیغامات بھی چیک کر سکے گا۔

 

اس سے پیشتر اس سال کا آغاز سے ہی بہت سے موبائلز میں واٹس ایپ نے کام کرنا بند کردیا ہے۔

 

اب بہت سے افراد خصوصی طور پر حساس اداروں میں کام کرنے والے اور اس کے علاوہ چند دوسرے ماہرین مجبور ہوں گے ہیں کہ وہ واٹس ایپ کو چھوڑ دے۔ اس کے علاوہ عام لوگوں کو بھی اب واٹس ایپ کو استعمال برتنی چاہیے اور ایک بات واضع کرتے چلے کہ اگر آپ اپنا واٹس ایپ اکاؤنٹ ڈیلیٹ بھی کر دیتے ہیں تو بہت عرصے بعد بھی آپ کا ڈیٹا اور دیگر معلومات واٹس ایپ کے پلیٹ فارم پر موجود رہتی ہے۔

 

یورپی یونین کے تقریبا ستائیس ممالک اپنے نئے قانون "جنرل ڈیٹا پروٹیکشن ریگولیشن" کی وجہ سے ان نئی شرطوں سے متاثر نہیں ہوں گے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

If you have any suggestion kindly let me know

Post Top Ad

Your Ad Spot